ممبی۔ حسین دلوائی۔( ایم۔پی۔راجیہ سبھا)نے پریس کو جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ کھادی۔چرخہ۔گاندھی یہ تصویریں دیش کی آزادی کی تاریخی نشانیاں ھیں ۔جسکو ھندوستانی نہیں بلکہ ساری دنیا عزت و احترام کی نظروں سے دیکھتی ھے۔کھادی ادیوگ کے کیلنڈر سے گاندھی جی کی تصویر ھٹاکر مودی کی تصویر کی خودنمائی پر انھوں نے بولتے ھوئے کہا کہ کھادی گرام ادیوگ چلتا ھی گاندھی کے نام پر اور اس کے کیلینڈر پر گاندھی جیسے مہاتما کی تصویر ھٹا کر کسی مکرو چہرے کی تصویر لگانا گاندھی کی توہین کرنے کے مترادف ھے۔
حسین دلوائی نے کہا کہ مودی کو چاہیے کہ پہلے آر۔ایس ایس کی سوچ بدلیں۔ ھٹلر کی ذھینیت رکھنے والے کبھی گاندھی نہیں بن سکتے منہ میں رام بگل میں چھری رکھنے والے گاندھی کے پیروں کی دھول تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہ دیش گاندھی کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا یہ دیش گاندھی کا ھے۔ ناکہ نتھورام گھوڑسے جیسےقاتل کا
حسین دلوائی نے کہا کہ گاندھی جی اھنسا وادی تھے وہ انسانیت کے علمبردار تھے وھی آزادی کے ہیروں ھیں۔جبکہ ان کی حکومت
آر۔ایس ایس کی سوچ ھے۔ جو لوگوں کے کھانے پینے پر بھی پابندی لگا دیتی ھے۔ جن کے پاس ذات پات کی تفریق مذہب کا درجہ رکھتی ھے۔ جن کے دامن بابری سے دادری تک داغدار ھیں جو 80 لاکھ جوں قوم کو گیس چیمبر میں موت کے گھاٹ اترنے والے ہٹلر کی تعریف کرنے والے آج منہ میں گاندھی اور بگل میں چھری لیے گھوم رھی ھیں اور گاندھی بنے کی کوشش کر رہے ہیں یعنی اک زرہ افتاب بنے کی جرآت کر رھا ھے۔حسین دلوائی نے تعجب کا اظہار کرتے ھوئے کہا ھے کہ کیا مودی نے آر ایس ایس چھوڑدی ھے۔
حسین دلوائی نے کھادئ گرام ادیوگ کی اس مجرمانہ حرکت کی مذمت کرتے ھوئے کہا وہ موجودہ کیلینڈر کو فوری ھٹایا جائے اور واپس بابائے قوم مہاتما گاندھی کی تصویر والے کیلینڈر شائع کیے جائیں
Post View : 7






























